نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 178
۱۵۷ ضرت خلیفہ مسیح الاول بھی حسب ضرورت اہم معاملات میں احباب جماعت سے مشورہ کرتے رہے۔تاہم مشاورت کا با قاعدہ نظام 1922ء میں خلافت ثانیہ کے دور میں قائم ہوا۔جس کے بعد ہر سال با قاعدگی سے اہم جماعتی معاملات وامور سے متعلق خلیفہ وقت جماعتی نمائندگان سے مشاورت کرتے رہے ہیں۔مجلس شوری کی ضرورت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔”سب سے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مجلس جس کو پرانے نام کی وجہ سے کارکن کانفرنس کے نام یاد کرتے رہے ہیں قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ وَاَمْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمُ اپنے معاملات میں مشورہ لے لیا کریں۔مشورہ بہت مفید اور ضروری چیز ہے اور بغیر اس کے کوئی کام مکمل نہیں ہوسکتا۔اس مجلس کی غرض کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی اغراض جن کی جماعت کے قیام اور ترقی سے گہرا تعلق ہے ان کے متعلق جماعت کے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ لے لیا جائے تاکہ کام میں آسانی پیدا ہو جائے۔یا ان احباب کو ان ضروریات کا پتہ لگے جو جماعت سے لگی ہوئی ہیں تو یہ مجلس شوری ہے۔(رپورٹ مجلس شوری ۱۹۲۲ء ص ۴) پس قرآن کریم ، احادیث رسول ، اسوہ خلفاء راشدین نیز اسوہ حضرت مسیح موعود و خلفاء سلسلہ اہم معاملات میں مشاورت ضروری ہے اور اس کے جماعتی زندگی کے لئے اچھے نتائج سامنے آتے ہیں۔پس کسی بھی خلیفہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہرا ہم امر میں عمائدین جماعت سے مشورہ کرے۔اگر آنحضرت کو اللہ تعالیٰ مومنوں سے مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو خلیفہ وقت تو بدرجہ اولیٰ مشورہ کرنے کے پابند ہیں۔