نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 148 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 148

۱۲۷ پس آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ نے امام وقت کو مانا اور اس کی بیعت میں شامل ہوئے۔اب خالصتاً آپ نے اس کی ہی اطاعت کرنی ہے، اس کے تمام حکموں کو بجالانا ہے ورنہ پھر خدا تعالیٰ کی اطاعت سے باہر نکلنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اطاعت کے اعلیٰ معیار پر قائم فرمائے اور یہ اعلیٰ معیار کس طرح قائم کئے جائیں۔یہ معیار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کر کے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ”ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمت اور کوشش کے موافق اس پر عمل کرتا ہے۔لیکن جو محض نام لکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا تو یاد رکھے کے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھوانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجائے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جودی جاتی ہے۔خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء۔بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ ماہ مئی ۲۰۰۵ء) خلیفہ وقت سے بحث و جدال جائز نہیں خلیفہ وقت کو خدا مقرر کرتا ہے۔لہذا خلیفہ وقت کے ساتھ بحث و جدال کرنا گویا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بحث کرنا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ ہرقسم کی فضیلت امام کی اطاعت میں ہے۔جیسا کہ حضرت اصلح الموعود فر ماتے ہیں:۔یاد رکھو کہ ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ