نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 147
۱۲۶ وہ اور تو کچھ نہیں کر سکتے اس لئے سمجھتے ہیں کہ کیونکہ یہ غیر معروف کے زمرے میں آتا ہے،خود ہی تعریف بنالی انہوں نے۔اس لئے ہمیں بولنے کا بھی حق ہے، جگہ جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے کا بھی حق ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ جگہ جگہ بیٹھ کر کسی کو نظام کے خلاف بولنے کا کوئی حق نہیں۔اس بارہ میں پہلے بھی میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔تمہارا کام صرف اطاعت کرنا ہے اور اطاعت کا معیار کیا ہے میں حدیثوں وغیرہ سے اس کی وضاحت کروں گا۔ایسے لوگوں کو حضرت خالد بن ولید کا یہ واقعہ ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ جب ایک جنگ کے دوران حضرت عمر نے جنگ کی کمان حضرت خالد بن ولید سے لے کر حضرت ابوعبیدہ کے سپر د کر دی تھی تو حضرت ابو عبیدہ نے اس خیال سے کہ خالد بن ولید بہت عمدگی سے کام کر رہے ہیں ان سے چارج نہ لیا تو جب حضرت خالد بن ولید کو یہ علم ہوا کہ حضرت عمرؓ کی طرف سے یہ حکم آیا ہے تو آپ حضرت ابو عبیدہ کے پاس گئے اور کہا کہ چونکہ خلیفہ وقت کا حکم ہے اس لئے آپ فوری طور پر اس کی تعمیل کریں۔مجھے ذرا بھی پروا نہیں ہوگی کہ میں آپ کے ماتحت رہ کر کام کروں۔اور میں اسی طرح آپ کے ماتحت کام کرتا رہوں گا جیسے میں بطور کمانڈ رایک کام کر رہا ہوتا تھا۔تو یہ ہے اطاعت کا معیار۔کوئی سر پھرا کہ سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ اس وقت غیر معروف تھا، یہ بھی غلط خیال ہے۔ہمیں حالات کا نہیں پتہ کس وجہ سے حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ فرمایا یہ آپ ہی بہتر جانتے تھے۔بہر حال اس فیصلہ میں ایسی کوئی بات ظاہر بالکل نہیں تھی جو شریعت کے خلاف ہو۔چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ حضرت عمرؓ کے اس فیصلہ کی لاج بھی اللہ تعالیٰ نے رکھی اور یہ جنگ جیتی گئی اور باوجود اس کے کہ اس جنگ میں بعض دفعہ ایسے حالات آئے کہ ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سوسود شمن کے فوجیوں کی تعداد ہوتی تھی۔