نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 127 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 127

1+4 تمام مذکورہ مسلمات کی رو سے یہ بات بالکل واضح ہے اور اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں کہ خلافت کے عظیم منصب پر جس کو فائز کیا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی خاص تقدیر کے ماتحت قدرت ثانیہ کا مظہر ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ خود اس منصب پر مقرر فرماتا ہے۔قرآن کریم، اسلام اور بزرگان سلف ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء راشدین اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جملہ خلفاء کا متفقہ مذہب یہی ہے کہ خلیفہ خدا تعالیٰ بناتا ہے اور باوجود ظاہر انتخاب کے ہر بچے خلیفہ کے انتخاب میں در اصل خدا تعالیٰ کا مخفی ہاتھ کام کرتا ہے اور صرف وہی شخص خلیفہ بنتا ہے اور بن سکتا ہے جسے خدا تعالیٰ کی ازلی تقدیر اس کام کے لئے پسند کرتی ہے اور اس کے سوا کسی کی مجال نہیں کہ مسند خلافت پر قدم رکھنے کی جرات کر سکے۔اس حقیقت مسلمہ اور واضحہ کی طرف جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:۔”خوب یا درکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح اول (اپنی) خلافت کے زمانہ میں متواتر اس مسئلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان اور در حقیقت قرآن شریف کو غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ انہیں ہم بناتے ہیں“۔( کون ہے جو خدا کے کام روک سکے۔انوار العلوم جلد ۲ ص ۱۱) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث اس تعلق میں فرماتے ہیں:۔”ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے۔اگر بندوں پر اس کو چھوڑا جاتا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنا لیتے۔لیکن خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بنا تا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا