نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 118 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 118

۹۷ اے عثمان ! یقیناً تجھے اللہ تعالیٰ ایک قمیص پہنائے گا۔اگر منافق اس قمیص کو اتارنے کی کوشش کریں تو ہرگز ہرگز نہ اتارنا۔ظاہر ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے اس حدیث میں حضرت عثمان کو یہ بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں خلات کا جامہ پہنائے گا اور منافقین کا طبقہ اس جامعہ کو اتارنے کا مطالبہ کرے گا لیکن تم نے ہرگز ہرگز اس جامعہ کو نہ اتارنا۔حضور کا یہ ارشاد کیسے واضح ہے کہ خلافت کی قمیص تمہیں خدا تعالیٰ پہنائے گا۔اس قمیص کی عظمت و احترام کا یہ تقاضا ہوگا کہ دشمن خواہ کچھ کریں تم نے ان کی طرف سے معزول کئے جانے کے مطالبہ کو تسلیم نہ کرنا۔خدا تعالیٰ نے حضرت عثمان کو منصب خلافت پر فائز فرمایا۔منافقوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ خلافت کے معزز جامہ کو آپ سے اتر والیس مگر خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندہ نے جان دینی قبول کر لی لیکن قمیص خلافت کو جو خدا تعالیٰ نے خود پہنائی تھی اسے اتارنا گوارا نہ کیا اور رسول کریم ﷺ کی ہدایت پر پورا پورا عمل کر دکھایا۔ان احادیث سے ثابت ہے کہ حضرت رسول اکرم یہ خلافت کے منصب کے متعلق یہی سمجھتے تھے کہ یہ منصب میرے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور جسے وہ اس مقام کا اہل سمجھے گا اسے ہی اس مقام پر فائز فرمائے گا۔خلفاء راشدین کا نظریہ اب ہم حضور کے جلیل القدر صحابہ اور آپ کے خلفاء کے نظریہ پر نگاہ ڈالتے ہیں کہ ان کا اس بارہ میں کیا عقیدہ تھا۔یہ ایک حقیقت ہے اور تاریخ نے اسے محفوظ کیا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے تمام خلفاء اس ایمان پر قائم تھے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے