نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 117 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 117

۹۶ بناتا ہے اور وہ خود مومنوں کے دل میں القاء کرے گا کہ حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو قبول نہ کریں۔کیونکہ مومنین خدا کی مرضی کے خلاف قدم نہیں اٹھا سکتے۔چنانچہ آخر وہی ہوا جو خدا تعالیٰ کا منشاء تھا۔(۲) دوسری حدیث حضرت حفصہ نے روایت کی ہے جو حضرت عمرؓ کی صاحبزادی تھیں اور حضرت رسول اکرم ﷺ کی زوجہ مطہرہ اور نہایت زیرک خاتون تھیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا:۔إِنَّ اَبَابَكْرِيَلِي الخِلَافَةَ مِنْ بَعْدِى ثُمَّ بَعْدَهُ أَبُوكِ فَقَالَتْ مَنْ اَنَبَاكَ يَارَسُولَ اللهِ قَالَ نَبَّانِي الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ۔(تفسير قُمّى) کہ میرے بعد ابوبکر خلیفہ ہوں گے اور ان کے بعد تمہارے باپ خلیفہ ہوں گے۔حضرت حفصہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کی۔حضور آپ کو کیسے علم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ علیم وخبیر خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس طرح ہوگا۔یہ حدیث شیعہ اصحاب کی مشہور کتاب تفسیر قمی میں بیان ہوئی ہے۔حضور پرنور کے ان ارشادات سے واضح ہے کہ خلیفہ خدا تعالیٰ بناتا ہے اور اس قادر و توانا ہستی نے حضور مو قبل از وقت اس بات سے آگاہ فرما دیا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد پہلا خلیفہ حضرت ابوبکر کو بناؤں گا اور پھر حضرت عمر کو۔(۳) حضرت عثمان جو حضرت رسول اکرم ﷺ کے جلیل القدر بزرگ صحابی اور خلیفہ ثالث تھے۔ان سے حضور نے فرمایا:۔إِنَّ اللهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ اَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعُهُ اَبَدًا۔(مسند احمد بن حنبل۔حدیث نمبر۲۳۴۲۷)