نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 110
۸۹ بکثرت دعائیں کریں اور ثابت کر دیں کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی قدرت ثانیہ اور جماعت ایک ہی وجود ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ رہیں گئے“۔(الفضل ۳۰ مئی ۲۰۰۳ء) نظام خلافت اور ذیلی تنظیموں کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔تمہارا نام انصار اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار۔گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا اور اللہ تعالیٰ از لی اور ابدی ہے اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ابدیت کے مظہر ہو جاؤ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے۔اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں۔ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے۔اسی لئے میں نے اطفال الاحمدیہ کی تنظیم قائم کی تھی اور خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔یہ اطفال اور خدام آپ لوگوں کے ہی بچے ہیں۔اگر اطفال الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی اور اگر خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی تو اگلی نسل انصار اللہ کی اعلیٰ ہوگی۔“ سبیل الرشاد حصہ اول ص ۱۲۲ از حضرت مصلح موعودؓ ) اسی طرح ایک دوسرے موقع پر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔” جب آپ نے انصار اللہ کا نام قبول کیا ہے تو ان جیسی محبت بھی پیدا کر یہ آپ کے نام کی نسبت خدا تعالیٰ سے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے۔اس لئے تمہیں چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھو اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو۔کیونکہ اگر خلافت قائم رہے گی تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہوگی۔خدام کی بھی ضرورت ہوگی اور اطفال کی بھی ضرورت ہوگی۔ورنہ