نصاب وقف نو

by Other Authors

Page 69 of 111

نصاب وقف نو — Page 69

69 مری رات دن بس یہی اک صدا ہے اسی نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو ترانه اطفال کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے ستاروں کو سورج کو اور آسماں کو وہ ہے ایک اسکا نہ نہیں کوئی ہمسر وہ مالک ہے سب کا وہ حاکم ہے سب پر ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہ ہے باپ اسکا نہ ہے کوئی بیٹا نہیں اسکو حاجت کوئی بیویوں کی ضرورت نہیں اسکو کچھ ساتھیوں کی ہر اک چیز پر اسکو قدرت ہے حاصل پہاڑوں کو اس نے ہی اونچا کیا ہے ہر اک کام کی اسکو طاقت ہے حاصل سمندر کو اس نے ہی پانی دیا ہے یہ دریا جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اسی نے تو قدرت سے پیدا کئے ہیں سمندر کی مچھلی ہوا کے پرندے سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے ہر اک شے کو روزی وہ دیتا ہے ہر دم وہ زندہ ہے اور زندگی بخشتا ہے کوئی شے نظر سے نہیں اسکے مخفی گھر یلو چرندے بنوں کے درندے ہر اک اپنے مطلب کی شے کھا رہا ہے خزانے بھی اسکے ہوتے نہیں کم وہ قائم ہے ہر ایک کا آسرا ہے بڑی سے بڑی ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی دلوں کی چھپی بات بھی جانتا ہے بدوں اور نیکیوں کو پہچانتا ہے وہ دیتا ہے بندوں کو اپنے ہدایت دکھاتا ہے ہاتھوں پر انکے کرامت ہے فریا د مظلوم کی سننے والا گناہوں کو بخشش سے ہے ڈھانپ دیتا صداقت کا کرتا ہے وہ بول بالا غریبوں کو رحمت سے ہے تھام لیتا یہی رات دن اب تو میری صدا ہے یہ میرا خدا ہے، یہ میرا خدا ہے