حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 1
حوادث زمانہ یا عذاب الہی سوال بڑی دیر سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال سے انسانی ذہن کو الجھائے ہوئے ہے کہ حادثات طبعی کا کوئی تعلق اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں دو نظریات ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ایک نظریہ اس امر پر مشتمل ہے کہ دنیا میں جتنے بھی حادثات واقع ہوتے ہیں یا آفات رونما ہوتی ہیں۔یہ سب قوانین طبعی کے ماتحت خود بخود ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں اور انسان کے اعمال، اس کی نیکی بدی یارسولوں کے انکار سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔دوسری طرف قدیم سے تمام قطعہ ارض پر بسنے والے اہل مذاہب کسی نہ کسی رنگ میں یہ مانتے چلے آئے ہیں کہ عذاب اور آفات جب بھی غیر معمولی نوعیت اختیار کر جائیں تو قوانین طبعی کے دائرہ سے نکل کر قوانین غیر طبعی کے حلقہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔اگر چہ ان سب مذاہب میں خدائے واحد و یگانہ کا وہ تصور تو نہیں ملتا جو اسلام نے پیش کیا ہے لیکن اپنے اپنے رنگ میں اس بات پر سب کا اتفاق نظر آتا ہے کہ یہ عذاب اور آفات کسی باشعور ہستی کے فیصلہ کے نتیجہ میں رونما ہوتے ہیں۔خواہ اس کا نام سورج دیو تابیان کیا جائے یا بادلوں کا خدا یا پہاڑوں کی روح یا سمندروں کی دیوی، وہ تمام مذاہب بھی جو خدا تعالیٰ کی مختلف صفات میں بعض خیالی خداؤں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔غیر معمولی آفات سماوی و ارضی کو غیر طبعی قرار دیتے چلے آئے ہیں۔وہ مذاہب جن میں توحید باری تعالیٰ کا عقیدہ آج تک محفوظ چلا آرہا ہے ان میں بھی اگر چہ نظریہ توحید کی تفاصیل میں کچھ نہ کچھ فرق ملتا ہے لیکن اس بات پر وہ بھی متفق ہیں کہ آفات سماوی یا حادثات طبعی ایک واحد خدا کی ناراضگی کا مظہر ہوتے ہیں۔ان مذاہب میں سر فہرست اسلام ہے اس کے بعد یہودیت اور پھر عیسائیت جو بیک وقت توحید کی بھی دعویدار ہے اور تثلیث کی بھی۔یہ ایک دلچسپ معمہ ہے اور آج کی دنیا میں جبکہ انسان طبیعات کے بہت سے گہرے اسرار 1