حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 51
حوادث طبیعی یا عذاب الہی ترجمہ : اس طاعون نے حسب ذیل مذهبی نتیجہ پیدا کیا کہ مذہبی اداروں اور راہب خانوں میں اسی طاعون کے نتیجے میں علمی دلچسپیوں اور نظم وضبط میں غیر معمولی کمی واقع ہو گئی اور غریب دیہاتی کلیسیاؤں میں اس کا یہ اثر پڑا کہ کہیں تو منتظم پادری ہی موجود نہ تھے اور کہیں پادری مقرر تو تھے مگر اکثر غیر حاضر رہنے والے۔یہ طاعون ایک اور پہلو سے بھی دلچسپ مطالعہ کا مواد پیش کرتی ہے کہ اس کا دائرہ عمل اس مرتبہ صرف عیسائی دنیا تک محدود نہیں رہا بلکہ اسلامی دنیا کو بھی اس نے اپنی لپیٹ میں لیا۔مسلمانوں کے حالات پر اگر غور کریں تو وہاں بھی بعینہ وہی شکل نظر آئی ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے چھ سو سال بعد عیسائی دنیا کی تھی۔اسی طرح عیسائیت تین صدیوں تک بالعموم نیکی کی راہ پر چلتے ہوئے بالآخر اپنے غلبہ کے دور میں راستہ سے بھٹک کر ظلم و تعدی کی راہ پر گامزن ہو گئی۔اور دوسرے تین سو سال عیسائیت کی روحانی تباہی اور ہلاکت کے سال شمار کیے جاسکتے ہیں جن کے بعد طاعون نے ان کی تائید کی بجائے ان کی مخالفت پر کمر باندھ لی۔اس سے ملتا جلتا ایک منظر ہمیں اسلامی دنیا میں بھی نظر آتا ہے۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تین سو سال کا زمانہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق نور اور ہدایت کا ایسا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے جس میں نیکی بہر حال بدی پر غالب رہی اور اعتقادی اور سیاسی اختلافات کے باوجود عالم اسلام کی اکثریت اپنی اکثر صفات اور خصال میں نیکی کا مظہر تھی۔پھر وہ دور شروع ہوا جس کو فیج اعوج کا نام دیا جاتا ہے اور اگلے تین سو سال خصوصیت کے ساتھ تاریکی کو بڑھانے کا موجب بنے۔خلافت جو پہلے ہی بادشاہت میں تبدیل ہو چکی تھی تقویٰ سے دور تر ہوتی چلی گئی۔فرقہ بندی اور اختلافات نے اسلامی نظریات کے ہر شعبہ کو پارہ پارہ کر دیا۔قصور شاہی عیش و عشرت کا مرکز بن گئے اور عوامی بستیوں کو بھی فسق و فجور اور ظلم و تعدی نے گھیر لیا۔دنیا داری بڑھنے لگی اور روحانیت مفقود ہونے لگی ایسے علمائے ظاہر پیدا ہونے شروع ہوئے جو تقویٰ کا لباس پہننے کی بجائے ریا کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے۔غرضیکہ وہ ہزار سالہ رات جس نے پہلی تین صدیوں کے بعد اسلامی دنیا پر چھا جانا تھا وہ بلا شبہ مذکورہ تین سوسال کے عرصہ میں پوری 51