حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page v
تعارف (از طبع اول) امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے منصب خلافت پر متمکن ہونے سے قریباً 4 سال قبل ایک مضمون سپرد قلم فرمایا جس کا عنوان تھا ”حوادث طبعی یا عذاب الہی“۔مضمون رساله الفرقان اکتوبر ۱۹۷۶ء نومبر، دسمبر ۱۹۷۶ء اپریل ۱۹۷۷ء اور مئی ۱۹۷۷ء میں بالترتیب چار اقساط میں شائع ہوا۔اس مضمون میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ دنیا میں جو حوادث اور عذاب ظاہر ہوتے ہیں ان کا تعلق خدا تعالیٰ کے فرستادوں کے انکار اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے ہے یا نہیں۔علاوہ ازیں حضور نے اس مضمون میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونے والے ایک مرض طاعون کا تفصیلاً ذکر فرمایا جس کے ظاہر ہونے کے بارہ میں حضرت مسیح موعود کو قبل از وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی تھی اور جسے حضرت مسیح موعود نے اپنی سچائی کے لئے بطور نشان پیش فرمایا۔اس مضمون کے آخر میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ بھی تجویز فرمایا کہ طاعون کا نشان آئندہ بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: بعید نہیں کہ آئندہ چند سال میں یہ (طاعون۔ناقل) ظاہر ہو جائے اور ۲۰۰۰ء تک ایک ہولناک عالمگیر و با کی شکل اختیار کر جائے۔اگر ایسا ہو تو جماعت کے لئے اس میں تنبیہ بھی ہے اور بشارت بھی۔تنبیہ یہ ہے کہ صرف احمدیت کا عنوان طاعون سے بچانے کیلئے کافی نہ ہو گا بلکہ تقویٰ کی شرط بھی ساتھ لگی ہوئی ہے۔“