حضرت سید بیگم صاحبہ ’نانی امّاں‘ — Page 6
سیرت حضرت سید بیگم، نانی اماں جان صاحبہ میں بھی وقت گزارا اور کوئی شکوہ نہ کیا۔آپ ایک فرمانبردار اور خاوند کی خدمت گزار بیوی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ :۔خاکسار کی نانی اماں نے مجھ سے بیان کیا کہ جب تمہارے نانا جان کی اس نہر بنوانے پر ڈیوٹی لگی جو قادیان کے مغرب کی طرف دو، اڑھائی میں فاصلے سے گزرتی ہے یعنی (موضع تتلہ کی نہر ) تو اس وقت تمہارے تایا مرزا غلام قادر کے ساتھ ان کا کچھ تعارف ہو گیا اور اتفاق سے ان دنوں میں کچھ بیمار ہوئی تو تمہارے تایا نے حضرت میر ناصر صاحب سے کہا کہ میرے والد صاحب (مرزا غلام مرتضیٰ) بہت ماہر طبیب ہیں آپ ان سے علاج کروا ئیں چنانچہ تمہارے نانا مجھے ڈولے میں بٹھا کر قادیان لائے ، جب میں یہاں آئی تو نیچے کی منزل میں تمہارے تایا مجلس لگائے بیٹھے تھے اور نیچے کی ایک کوٹھری میں تمہارے ابا (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) ایک کھڑکی کے پاس بیٹھے ہوئے قرآن شریف پڑھ رہے تھے۔اوپر کی منزل میں تمہارے دادا صاحب (مرزا غلام مرتضی ) تھے، تمہارے دادا نے میری نبض دیکھی اور ایک نسخہ لکھ دیا اور پھر حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ساتھ اپنے دلی جانے اور وہاں حکیم محمد شریف صاحب سے علم طب سیکھنے کا ذکر کرتے رہے۔