حضرت سید بیگم صاحبہ ’نانی امّاں‘ — Page 17
سیرت حضرت سید بیگم، نانی اماں جان صاحبہ 17 آدمی بھی تھے۔اور بہت اصرار کے ساتھ درخواست کرتے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ تمہارے نانا ( میر ناصر نواب) کے بہت تعلقات تھے انہوں نے کئی دفعہ تمہارے ابا کے لئے سفارشی خط لکھا اور بہت زور دیا کہ مرزا صاحب بہت نیک اور شریف اور خاندانی آدمی ہیں مگر میری یہاں بھی تسلی نہ ہوئی کیونکہ ایک تو عمر کا بہت فرق تھا دوسرے ان دنوں دہلی والوں میں پنجابیوں کے خلاف بہت تعصب ہوتا تھا۔بالآخر ایک دن میر ناصر نواب صاحب نے لدھیانہ کے ایک باشندے کے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے بہت اصرار کی درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی اسے رشتہ دے دومیں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی تو مجھے شرح صدر نہ ہوا اور میں نے انکار کیا جس پر میر ناصر نواب صاحب نے کچھ ناراض ہو کر کہا کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے کیا ساری عمر ا سے یونہی بٹھا چھوڑ وگی۔میں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے۔میر ناصر نواب صاحب نے جھٹ ایک خط نکال کر میرے سامنے رکھدیا کہ لو پھر میرزا غلام احمد کا بھی مخط آیا ہوا ہے جو کچھ بھی ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہیئے میں نے کہا اچھا پھر غلام احمد کولکھ دو چنا نچہ تمہارے نانا جان نے اسی وقت قلم دوات لے کر خط لکھ دیا۔(11)