نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 83 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 83

83 بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔میں تو یہاں تک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دُعائیں کرو۔بے شک اُردو میں ، پنجابی میں انگریزی میں، جو جس کی زبان ہو اسی میں دعا کرے۔مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی طرح پڑھو۔اس میں اپنی طرف سے کچھ دخل مت دو۔اس کو اسی طرح پڑھو اور معنی سمجھنے کی کوشش کرو۔اسی طرح ماثورہ دعاؤں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد جو چاہو خدا تعالیٰ سے مانگو اور جس زبان میں چاہو مانگو۔وہ سب زبانیں جانتا ہے۔سُنتا ہے، قبول کرتا ہے۔اگر تم اپنی نماز کو با حلاوت اور پر ذوق بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کرو۔مگر اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں تو ٹکریں مار کر پوری کر لی جاتی ہیں پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے۔نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے۔اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تو نماز کے بعد میں ہوتا ہے۔یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دعا کا نام ہے جو بڑے عجز ،انکسار ،خلوص اور اضطراب سے مانگی جاتی ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی