نماز عبادت کا مغز ہے — Page 45
45 وو وو 66 وو 66 وو 66 ہونا جا۔چاہیے اور شئے ہے اور ” ہے اور شئے ہے۔اس ” ہے کا علم سوائے دُعا کے نہیں حاصل ہوتا۔عقل سے کام لینے والے " ہے" کے علم کو نہیں پاسکتے۔اسی لیے ہے کہ خدارا بخدا تواں شناخت لَا تُدْرِكُهُ الأبصَارُ کے بھی یہی معنی ہیں۔کہ وہ صرف عقلوں کے ذریعہ سے شناخت نہیں کیا جاسکتا بلکہ خود جو ذریعے (اُس) نے بتلائے ہیں ان سے ہی اپنے وجود کو شناخت کرواتا ہے اور اس امر کے لئے اهْدِنَــــالــصـراط المُسْتَقِيمَ صِراطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ : 4) جیسی اور کوئی دُعا نہیں ہے۔( ملفوظات جلد سوم ص 589 تا 590) نمازوں کو خوف اور حضور سے ادا کرو سواے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کیسے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔(روحانی خزائن جلد 19، کتاب کشتی نوح، ص 15) یا پھر فرمایا: جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص دُعا میں لگا نہیں رہتا