نماز عبادت کا مغز ہے — Page 267
267 صلى الله صلى الله کی مسجد چھوٹی سی تھی کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی لپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت ﷺ کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا۔یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم یہ ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔“ ( ملفوظات جلد چہارم ص 491) حضرت مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود نماز میں آمین بالجہر نہ کرتے تھے لیکن کرنے والوں کو روکتے بھی نہ تھے۔رفع یدین نہ کرتے تھے لیکن کرنے والوں کو روکتے نہ تھے۔بسم اللہ بالجبر نہ پڑھتے تھے لیکن پڑھنے والوں کو روکتے بھی نہ تھے۔ہاتھ سینے پر باندھتے تھے لیکن نیچے باندھنے والوں کو نہ روکتے تھے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم جو سالہا سال تک آپ کی نماز میں پیش امام رہے اور جن کو خدا کی پاک وحی میں لیڈر کا خطاب ملا تھا ہمیشہ بسم اللہ اور آمین بالجہر کرتے اور فجر و مغرب اور عشاء میں بالجبر قنوت پڑھتے اور گاہے گاہے رفع یدین کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی ( بیت الذکر ) میں ان امور کو موجب اختلاف نہ گردانا جاتا تھا۔جو احباب کرتے تھے اُن کو کوئی روکتا نہ تھا جو نہ کرتے تھے اُن سے کوئی اصرار نہ کرتا تھا کہ ایسا ضرور کرو۔(الفضل، 3 جنوری 1931ء)