نماز عبادت کا مغز ہے — Page 262
262 تھا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی اور ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کر سکے تو وہ اُٹھ کر استغفار، دُرود شریف اور صلى اللهم الحمد شریف ہی پڑھ لیا کرے۔آنحضرت عﷺ ہمیشہ نوافل ادا کرتے۔آپ ﷺ کثرت سے گیارہ رکعت پڑھتے۔آٹھ نفل اور تین وتر۔آپ ﷺ بھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دورکعت پڑھ لیتے اور پھر سو جاتے اور پھر اُٹھتے اور دورکعت پڑھ لیتے اور سوجاتے۔غرض سو کر اور اُٹھ کر نوافل اُسی طرح ادا کرتے جیسا کہ اب تعامل ہے اور جس کو اب چودھویں صدی گزر رہی ہے۔تہجد کی تاکید به ( ملفوظات جلد سوم ،ص 461) تہجد میں خاص کر اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔درمیانی نمازوں میں یہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے رزاق اللہ تعالیٰ ہے۔نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے ظہر اور عصر کبھی بھی جمع ہو سکتی ہے۔اللہ تعالی جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے، اس لیے یہ گنجائش رکھ دی، مگر یہ گنجائش تین کے جمع