نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 242 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 242

242 پڑھی کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پالیا اس کی رکعت ہوگئی۔مسائل دوطبقات کے ہوتے ہیں۔ایک جگہ تو حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا اور تاکید کی۔نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں۔وہ ام الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے، مگر جو شخص باوجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آکر ملا ہے، تو چونکہ دین کی بناء آسانی اور نرمی پر ہے۔اس واسطے حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہو گئی۔وہ سورۃ فاتحہ کا منکر نہیں ہے بلکہ دیر میں، پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اُسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا پالیا اور ایک حصہ میں یہ سبب سی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے، تو کیا حرج ہے۔انسان کو چاہیے کہ رخصت پر عمل کرے۔ہاں جو شخص عمدا سستی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے۔تو اس کی نماز ہی فاسد ہے۔( ملفوظات جلد اوّل ،ص448)