نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 230 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 230

230 ہے۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر حکام سے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کر لی جائے ، تو وہ اجازت دے دیا کرتے ہیں۔نیز اعلیٰ حکام کی طرف سے ماتحت افسروں کو اس بارہ میں خاص ہدایات ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ترک نماز کے لیے ایسے بے جا عذر بجز اپنے نفس کی کمزوری کے اور کوئی نہیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد میں زیادتی نہ کرو۔اپنے فرائض منصبی نہایت دیانتداری سے بجا لاؤ، گورنمٹ پر ایک سیکنڈ کیلئے بھی بدظنی نہ کرو۔کیا تمھیں سکھوں کے عہد حکومت کے واقعات معلوم نہیں ، جس وقت مسجدوں میں اذان دینی موقوف ہوگئی تھی۔گائے کو ذراسی تکلیف دینے پر سخت ایڈا ئیں اور بے حد ظلم ہوتے تھے پس ایسی مصیبت سے تم کو خلاصی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ بہت فاصلہ سے اس سلطنت کو لایا جس سے ہم نے بہت فائدہ حاصل کیا اور امن و امان سے اپنے فرائض مذہبی ادا کرنے لگے۔اس لیے ہمیں کس قدر شکر یہ اس گورنمنٹ کا کرنا چاہیے۔خوب یاد رکھو کہ جو شخص انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر نہیں کرتا۔( ملفوظات جلد اوّل، ص 173 تا 174)