نماز عبادت کا مغز ہے — Page 21
21 غفلت کا نام کفر ہے۔پس جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات صاف ہے۔یہ پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہیں ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہئے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہئے۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اُسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی طرح کی اُمید اور بھروسہ کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچتا ہے اُس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اُتنا ہی زیادہ تیزی کوشش اور محنت اور دیر تک اُسے چلنا ہوگا۔سوخدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اُس کا بعد اور دوری بھی لمبی۔پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اُس کے دربار میں پہونچنے کی خواہش رکھتا ہے۔اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہوکر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کردی وہ کیا پہنچے گا۔( تفسير سورة البقرة ، ص 51 ، 52 ) ( ملفوظات جلد سوم ص 189,188)