نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 20 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 20

20 تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے، اُس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اُس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اُس سے اس کی رضا کی را ہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اُسی سے خواستگار ہو کیونکہ اُسی کی دی ہوئی توفیق سے کچھ کیا جاسکتا ہے۔اے خدا ! ہم کو توفیق دے کہ ہم تیرے ہوجائیں اور تیری رضا پر کار بند ہو کر تجھے راضی کرلیں خدا کی محبت اسی کا خوف اسی کی یاد دل میں لگا رہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے پھر جو شخص نماز ہی سے فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا۔وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سو رہنا۔یہ تو دین ہرگز نہیں یہ سیرت کفار ہے بلکہ جو دم غافل وہ دم کا فر والی بات بالکل راست اور صحیح ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ أَذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُونِي وَلَا تَكْفُرُونَ یعنی اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھوں گا اور میرا شکر کیا کرو میرے انعامات کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکرِ الہی کے ترک اور اُس سے