نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 215 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 215

215 دُعاؤں میں اس کے بعد اسقدر خشوع وخضوع کرتے ہیں کہ جس کی حد نہیں اور اتنی دیر تک دُعا مانگتے رہتے ہیں کہ مسافر دو میل تک نکل جاوے۔بعض لوگ اس سے تنگ بھی آجاتے ہیں تو یہ بات معیوب ہے۔خشوع خضوع اصل جزو تو نماز کی ہے وہ اس میں نہیں کیا جاتا اور نہ اس میں دُعا مانگتے ہیں۔اس طرح سے وہ لوگ نماز کو منسوخ کرتے ہیں۔انسان نماز کے اندر ہی ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں دُعا مانگ سکتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم ،ص 264) جماعت کو نصیحت فرمایا! اصل یہ ہے کہ ہم دُعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دُعا مانگتے ہیں اور صلوٰۃ بجائے خود دُعا ہی ہے۔بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ ہندوستان میں یہ عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔اس لیے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے، جس میں کراہت پائی جاتی