نماز عبادت کا مغز ہے — Page 213
213 اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دُعائیں مانگنی چاہئیں۔نماز کے اندر ہر موقعہ پر دُعا کی جاسکتی ہے۔رکوع میں بعد تسبیح ، سجدہ میں بعد تسبیح ، التحیات کے بعد ، کھڑے ہو کر رکوع کے بعد بہت دُعائیں کرو تا کہ مالا مال ہو جاؤ۔چاہیے کہ دُعا کے واسطے رُوح پانی کی طرح بہہ جاوے۔ایسی دُعا دل کو پاک و صاف کردیتی ہے۔یہ دعا میسر آوے تو پھر خواہ انسان چار پہر تک دُعا میں کھڑا رہے۔گناہوں کی گرفتاری سے بچنے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگنی چاہئیں۔دعا ایک علاج ہے جس سے گناہ کی زہر دُور ہو جاتی ہے۔بعض نادان لوگ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں دُعا مانگنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔یہ غلط خیال ہے ایسے لوگوں کی نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔دعا سے خالی نماز ( ملفوظات جلد پنجم ،ص54 تا 55) جو دعا سے غافل ہے وہ مارا گیا۔ایک دن اور ایک رات جس کی دُعا سے خالی ہے وہ شیطان سے قریب ہوا۔ہر