نماز عبادت کا مغز ہے — Page 185
185 پیچھے دُعا کیلئے بیٹھے رہتے ہیں۔نماز کا اصل مغز اور روح تو دُعا ہی ہے۔نماز سے نکل کر دُعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہوسکتا ہے۔ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا عرض حال کرنے کا موقع بھی ہو، لیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کہے لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے۔اسے کیا فائدہ۔ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع و خضوع کے ساتھ دُعائیں نہیں مانگتے۔تم کو جو دُعائیں کرنی ہوں، نماز میں کر لیا کرو اور پورے آداب الدعا کو ملحوظ رکھو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع ہی میں دُعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دُعا کے آداب بھی بتادیے ہیں سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دُعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دُعا نماز ہی میں ہوتی ہے، چنانچہ اس دُعا کو اللہ تعالیٰ نے یوں سکھایا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ۔۔۔۔۔۔إلى آخره یعنی دُعا سے پہلے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی جاوے۔جس سے اللہ تعالیٰ کیلئے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو۔اس لیے فرمایا الحمد اللہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے