نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 179 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 179

179 نماز یا دعا کو ایک کار ثواب سے زیادہ نہ سمجھنا غلطی ہے بعض لوگ جلدی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم دُعا سے منع نہیں کرتے مگر دُعا سے مطلب صرف عبادت ہے۔جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ ہر ایک عبادت جس کے اندر خدا تعالیٰ کیطرف سے روحانیت پیدا نہیں ہوتی اور ہر ایک ثواب جس کی محض خیال کے طور پر کسی آئندہ زمانے پر امید رکھی جاتی ہے وہ سب خیال باطل ہے۔حقیقی عبادت اور حقیقی ثواب وہی ہے جس کے اسی دنیا میں انوار و برکات محسوس بھی ہوں۔ہماری پرستش کی قبولیت کے آثار یہی ہیں کہ ہم عین دُعا کے وقت میں اپنے دل کی آنکھ سے مشاہدہ کریں کہ ایک تریاقی نور خدا سے اُترتا اور ہمارے دل کے زہریلے مواد کو کھوتا اور ہمارے پر ایک شعلہ کی طرح گرتا اور فی الفور ہمیں ایک پاک کیفیت انشراح صدر اور یقین اور محبت اور لذت اور اُنس اور ذوق سے پر کر دیتا ہے۔اگر یہ امر نہیں ہے تو پھر دُعا اور عبادت بھی ایک رسم اور عادت ہے۔ایام اسح ، روحانی خزائن جلد 14 ص 241)