نماز اور اس کے آداب — Page 50
50 نماز با جماعت کی برکات اللہ تعالیٰ نے اس عبادت (نماز با جماعت ) میں بہت سی شخصی اور قومی برکتیں رکھی ہیں۔قرآن پاک نے جہاں بھی نماز کا حکم دیا ہے نماز با جماعت کا حکم دیا ہے۔خالی نماز پڑھنے کا کہیں حکم نہیں۔اس میں عالمگیر اتحاد، مساوات اور امام کی ہر حال میں اطاعت کا سبق ملتا ہے۔مسلمانوں کی تنظیم اور رعب و دبدبہ کی جھلک نظر آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کمزور اور قوی سب کو اس اعلیٰ مقام تک پہنچانے کے لیے نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ کمزور بھی قوی کے ساتھ مل کر ان مواقع کو پالیں۔جو ان کے دلوں میں صفائی پیدا کریں اور قوی ایمان والوں کے دلوں سے نکلنے والی مخفی تا ثیرات کو اپنے اندر جذب کر کے صفائی قلب پیدا کر سکیں۔نوٹ:۔۱۔اگر امام ایک یا زائد رکعت پڑھا چکا ہو تو جس حالت میں بھی امام ہو، بعد میں شامل ہونے والا اس کی پیروی کرے۔جب امام دونوں طرف کا سلام مکمل کر ( پھیر ) لے تو بعد میں شامل ہونے والا الله اكبر کہہ کر کھڑا ہو جائے اور اپنی بقیہ رکعتیں پوری کرے۔اگر کوئی رکوع میں امام کے سراٹھانے سے پہلے نماز میں شامل ہو تو وہ اس کی پوری رکعت شمار ہوگی۔۲۔اگر نماز کھڑی ہو چکی ہو تو پھر کوئی دوسری نماز ، سنت یا نفل نہ پڑھی جائے۔جماعت میں شمولیت اختیار کی جائے۔نماز باجماعت ختم