نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 49 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 49

49 ضروری ہیں۔کندھے سے کندھا ملا ہوا ہو۔درمیان میں کوئی جگہ بھی خالی نہ ہو۔صفوں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سختی سے تاکید فرمایا کرتے تھے کہ بالکل سیدھی ہوں۔اس کا مقتدی کو خاص خیال رکھنا چاہیے۔فجر کی نماز با جماعت ہو تو امام سورۃ فاتحہ بالجہر پڑھتا ہے اور قرآن کریم کا کچھ حصہ بلند آواز سے پڑھتا ہے۔مقتدی سورۃ فاتحہ ساتھ ساتھ آہستہ پڑھتے ہیں۔باقی قرآت سنتے ہیں۔باقی حصہ ناز کا امام بھی آہستہ پڑھتا ہے۔سوائے تکبیروں، سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ اور آخری سلاموں کے۔ظہر اور عصر کی نماز میں تمام رکعتوں میں امام آہستہ آہستہ پڑھتا ہے۔اس کے پیچھے کے نمازی بھی اپنے طور پر سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں۔مغرب کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں امام سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کا کچھ حصہ بلند آواز میں پڑھتا ہے۔مقتدی سورۃ فاتحہ ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منہ میں پڑھتا ہے۔امام جب قرآن کریم کا حصہ پڑھتا ہے تو مقتدی خاموشی سے سنتا ہے۔آخری۔تیسری رکعت میں امام اور مقتدی بھی زیر لب سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں۔عشاء کی نماز میں بھی پہلی دو رکعتوں میں امام بلند آواز سے سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھتا ہے اور مقتدی سورۃ فاتحہ منہ میں دہراتے ہیں اور قرآن کریم کا دوسرا حصہ صرف سنتے ہیں۔مگر آخری دورکعت میں امام قیام کی حالت میں سورۃ فاتحہ پڑھتا ہے وہ بھی آہستہ آہستہ منہ میں ، اور مقتدی بھی اپنے اپنے طور پر آہستہ آہستہ ہی منہ میں سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں۔تمام با جماعت نمازوں میں امام تکبیر، سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور سلام بہر حال بلند آواز سے کہتا ہے۔