نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 61 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 61

کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں اُسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی تو ہے پس ہم نبی ہیں۔ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے " ۱۵۰ ربدر در مایچ نشانه) در حقیقة الوحی منش حاشیہ پیہ فرماتے ہیں :- اور یا در ہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوئی میں نبی کا نام شنکر دھو کہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اُس نبوت کا دعوی کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے ، لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فاضہ ر مالی کا کمال ثابت کرنے کے لیے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔اس لیے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہے مذکورہ بالا وضاحتوں کے ذیل میں چند ایسے حوالے پیش کیے جاتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام پوری صراحت کے ساتھ اور علی لاطلات ثبوت ورسالت کے مدعی کے طور پر سامنے آتے ہیں :- پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پینگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی اور رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں