نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 42
۴۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد تمام جماعت احمدیہ نے بالا تفاق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات مندرجہ الوصیت کی روشنی میں حضرت خلیفة المسیح الاول کی بعیت ضروری سمجھی تھی۔اس لیے مولوی محمد علی صاحب نے جماعت کے اس اجتماع کی تاویل کرتے ہوئے لکھا:- یں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پاک وجود مولوی نورالدین کا جو خلیفہ المسیح کہلایا اور تو ایک ہی خلیفہ مسیح کا اپنے اصلی معنوں میں کہلانے کا مستحق ہے ، حضرت مسیح کی جگہ ہماری روحانی تکمیل کے لیے دیا تھا یہ وہ پاک اور بے نفس اور متوکل وجود ہے جس کی نظیر آج دنیا میں نہیں ملتی۔اس روحانی عظمت اس علم و فضل کا کوئی اور وجود بیماری جماعت میں نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ چاہے تو ہزاروں ایسے پیدا کر دے مگر میں موجودہ واقعات کا ذکر کرتا ہوں، اس کا تو صرف علم و فضل ہی ایسا ہے کہ اس کے سامنے سب کی گردنیں جھکی ہیں ، خواہ ہم نے اس کی بعیت بھی نہ کی ہوتی ، مگرائی منشاء نے سلسلے کی مزید تقویت کے لیے سب کے دلوں میں حضرت مسیح موعود کی وفات پر یہ ڈال دیا کہ اس پاک اور بے نفس وجود سے جو نورالدین کی شکل میں تم میں موجود ہے روحانی تعلق پیدا کرد ، اس لیے اس کا انتخاب چالیس نے نہیں کیا بلکہ کل قوم کی گردنیں الٹی ارادہ سے اس کے آگے جھک گئیں اور قریب ڈیڑھ ہزار کے آدمیوں نے ایک ہی وقت میں سویت کی اور ایک بھی تنفس باہر نہ رہا کیا مرد اور کیا عورت ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ تادیل اہل پیغام کے موقف کی تائید کی بجائے تردید کا سامان مہیا کرتی تھی اور اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ جماعت احمد یہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام