نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 23 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 23

۲۳ کہ رسول کریم کی وفات کے بعد صرف تیس برس تک رسالت کی برکتوں کو خلیفوں کے لباس میں رکھنا ضروری ہے۔پھر بعد اس کے دنیا تباہ ہو جائے تو ہو جائے کچھ پروا نہیں" ران عمومی ارشادات کے بعد جو خلافت کے سلسلہ کو جاری رکھنے کی واضح دلیل میں اب خصوصی ارشادات پیش کیے جاتے ہیں ، جن سے ایک اور ایک ڈو کی طرح یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ر ہے گا اور یہ خلافت مشخصی خلافت ہو گی۔اور خلافت راشد کے طریق اور طرز پر ہوگی۔ار حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی کتاب حمامة البشرکی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو درج فرمایا اور لکھا ہے کہ يسا فى المسيح الموعود او خَلِيفَة مِنْ خلفَائِةٍ إِلَى أَرْضِ دِمَشْقَ - کہ خود مسیح موعود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ ارضِ دمشق کی طرف سفر کرے گا۔حضور علیہ السلام نے اپنی کتاب میں یہ تخریبہ فرما کر دو نہایت ہی واضح گواہیاں خلافت کے مسئلہ پر پیش فرمائی ہیں۔ایک تو یہ کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسیح موعود کے جانشین اور خلیفے ہوں گے اور اُن میں سے کوئی خلیفہ دمشق کا سفر بھی کرے گا۔دوسری گواہی آب کی اپنی ہے کہ گویا آپ نے اس حدیث کو قبول فرمایا اور اس طرح آپ نے اپنے بعد جو کچھ ہونے والا تھا اس کا اظہار اس حدیث کے درج کرنے سے۔فرما دیا اور اپنی وفات سے پندرہ سال پہلے یہ گواہی دے دی کہ میرے بعد