نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 22
۲۲ کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالٰی اس امت کے لیے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعیت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہ دنیا کیا متنے رکھتا تھا۔رو اور اگر خلافت راشده صرف تیس برس تک رہ کر بھیر میشه کے لیے اس کا دور ختم ہو گیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدات لئے کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ ابواب سعادت مفتوح رکھے" ان ارشادات سے اُن لوگوں کی تردید کی گئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت صرف صحابہ تک ہی محدود تھی اور آئندہ کے لیے خلافت کو بند سمجھتے ہیں۔آپ نے ان ارشادات سے واضح کر دیا ہے کہ آیت استخلاف میں دائمی خلافت کا صاف وعدہ ہے۔خلافت کی علت غائی بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ آیت استخلات کی عمومیت کو تسلیم کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اسی کتاب شہادة القرآن میں تحریر فرمایا ہے :- "چونکہ کسی انسان کے لیے دائمی طور پر تقا نہیں۔لہذا خدا تعالٰی نے یہ ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں طلقی طور پر ہمیشہ کے لیے تا قیامت قائم رکھے۔سواسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا۔تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے پس جو شخص خلات کو تین برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہر گز نہ تھا