نبوت سے ہجرت تک — Page 79
69 کیا حال تیرے کر کے چلاگیا تو آپ نے کہا " سراقہ اسے ہاتھ میں کسری کے کنگن ہوں گے۔" (اسد الغابہ) بچہ۔پھر سراقہ نے جا کہ بتایا تو نہیں۔ماں۔نہیں سراقہ نے کسی سے ذکر نہیں کیا۔آپ آگے بڑھے تو راستے میں زبیر کی ہو سے ملاقات ہوئی جو ایک تجارتی سفر سے واپس آرہے تھے۔انہوں نے ایک ایک جوڑا سفید کپڑوں کا دونوں مقدس مسافروں کو پیش کیا۔یہ سفر اٹھ دن جاری رہا۔حضرت ابو بکر رضہ کا ہیشہ تجارت تھا کئی باران راستوں سے آتے جاتے رہتے تھے اکثر لوگ ان کو پہچانتے تھے جب پوچھتے کہ ابو بکرام یہ تمہارے آگے کون مسافر ہے تو جواب دیتے کہ میرا ہادی ہے، (بخاری باب الہجرت ) لوگ سمجھتے کوئی گائیڈ ہو گا۔ہاں وہ گائیڈ ہی تو تھا صرف ابو بکر رضہ کا ہی نہیں بلکہ دونوں جہانوں کا راہبر اور ہادی۔کاش کہ مکہ والے وقت پر بہیجان لینے اور دکھ دینے سے باز آجاتے۔جس طرح ہر نبی کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اسی طرح پیارے آقا کو بھی مکہ چھوڑا پڑا جہاں آپ کا بچپن گزرا تھا۔جہاں آپ جوان ہوئے تھے۔جہاں رشتے دار اور عزیز تھے جن کی بھلائی کی خاطر آپ اپنے آرام تو کیا جان کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے۔ہدایت کا نور بانٹنے اور ماریں کھاتے۔اصلاح اخلاق کرتے اور دکھ جھیلتے۔اسی مکہ میں ماں باپ اور بزرگوں کی نشانیاں تھیں۔خانہ کعبہ تھا۔سب کو خدا کی خاطر چھوڑ دیا اور ایک نئی بستی میں اجنبی لوگوں سے محبت کا رشتہ باندھا جو ہمیشہ قائم رہا۔آپ کے جانے سے