نبوت سے ہجرت تک — Page 78
یں کچھ آرام کیا اتنے میں ایک چرواہا ادھر سے گزرا تو حضرت ابو کر تم نے اُس سے دُودھ لے کر پانی میں ٹھنڈا کر کے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور آرام فرما کہ اُٹھے تھے ٹھنڈا دودھ پیا جس سے حضرت ابو بکر بہت خوش ہوئے۔پھر یہ قافلہ آگے چلا۔بچہ۔اب یہ تو اطمینان تھا کہ خطرے سے نکل آئے۔ماں۔خطرے سے کہاں نکلے تھے۔حضرت ابو بکر رض نے دیکھا تو ایک شخص گھوڑا دوڑائے آرہا ہے۔حضرت ابو بکرم نے فرمایا " یارسول اللہ کوئی شخص ہمارے تعاقب میں آرہا ہے۔آپ نے تسلی دلائی فکر نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے ، ( بخاری باب المهاجرین ) دہ گھڑ سوار قریب آتا جا رہا تھا کہ اتنے میں اُس کے گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور اس کے پاؤں رہیت میں دھنس گئے ، سوار بھی الٹ کر گرا جس کی وجہ سے گرد و غبار پھیل گیا۔سوار نے اونچی آواز سے کہا۔میں سراقہ بن مالک بن جعشم ہوں کچھ کہنا چاہتا ہوں میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔رابن ہشام ص ۳۲) اس آواز پر آپ رُک گئے۔سراقہ نے قریب اگر کہا کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ محمد کاستا را اقبال پر ہے۔اور یہ ضرور ایک دن غالب آئیں گے مجھے امن کی تحریر لکھ دیں جو میرے پاس آپ کی نشانی ہو۔پیارے آقا نے عامربن فہیرہ کو کہا کہ چمڑے پر تحر یہ کھوادی پھر اُسے حکم دیا کہ کسی سے کچھ کہتا نہیں۔جب وہ خاموش رہنے کا وعدہ