نبوت سے ہجرت تک — Page 73
" " مجھے ہجرت کا حکم مل گیا ہے۔" حضرت ابو بکر رض نے عرض کیا۔یا رسول اللہ مجھے بھی ساتھ رکھے گا۔آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت عائش یہ کہتی ہیں میں نے کبھی کسی کو خوشی سے روتے نہیں دیکھا تھا مگر اس روز میرے والد کے خوشی سے آنسو بہہ ہے تھے۔( طبری، ابن هشام جلد اصل ۳۲۲ ) بچہ۔حضرت ابو بکر رضو بڑے خوش نصیب تھے۔پھر کیا ہوا ؟ ماں۔حضرت ابو بکر نہ سمجھدار بھی بہت تھے۔انہوں نے اچھے چارے کھلا کہ ہجرت کی خاطر دو اونٹنیاں خوب پالی ہوئی تھیں تاکہ وہ زیادہ دیر سفر کہ سیکھیں۔جب شنا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ادب سے درخواست کی کہ جو اونٹنی دونوں میں سے آپ کو پسند ہو قبول فرما ہیں۔آپ نے ایک اونٹنی پسند فرمائی اور اصرار کر کے اُس کی قیمت بھی ادا کر دی۔اب ہجرت کی تیاریاں شروع ہوئیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر آئے۔حضرت علی رض کو بلایا اور سمجھایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت ہوگئی ہے مگر میرے پاس مکہ والوں کی امانتیں پڑی ہیں۔تم یہ امانتیں دے کر میشرب آجانا۔مگر آج کی رات میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کہ شور ہنا۔گھرانے اور پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ تمہاری خود حفاظت کرے گا۔دوسری طرف حضرت ابو بکر صدیق زمہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو کہا کہ تم