نبوت سے ہجرت تک — Page 72
۷۲ امیہ بن خلف ، ابوالبختری۔کوئی کہ رہا تھا زنجیروں سے باندھ کر کمرے میں بند کر دیں خود ہی ختم ہو جائے گا۔کسی کا خیال تھا وطن سے نکال دیں۔ابو جہل کی تجویز سب کو پسند آئی کہ قریش کے سر قبیلہ سے ایک ایک جوان لے کر ایک پارٹی بنائی جائے جو ایک ہی وقت میں تلواروں سے حملہ کر دے اس طرح آپ کا قبیلہ کس کس سے لڑے گا۔سب قبیلے مل کر خون بہا ادا کر دیں گے۔قصہ نظم۔چنانچہ اسی رات اس منصوبے پر عمل کرنے کی تجویز بھی منظور ہوگئی۔بچہ۔آپ کو تو خیر بھی نہیں ہوگی کہ کیا منصوبے بن رہے ہیں۔ماں۔آپ کے ساتھ تو سب سے باخبر اخیر و علیم خدا تھا۔اُس نے حضرت جبرائیل کے ذریعے ہر بات کی آپ کو اطلاع دے دی۔ساتھ ہی اجازت دے دی کہ آپ آج کی رات مکہ میں نے گزاریں۔یثرب کی طرف ہجرت کر جائیں اُن دنوں عرب میں گرمی کا موسم تھا اجازت ملتے ہی آپ دوپہر کے وقت اپنے دوست ابو بکر صدیق رضہ کے گھر تشریف لے گئے۔آپ عام طور پر ان کے گھر صبح یا شام کو جایا کرتے تھے۔دوپہر کو آپ کی تشریف آوری سے حضرت ابو بکر نہ سمجھ گئے ضرور کوئی بات ہے۔آپؐ نے آتے ہی فرمایا کوئی غیر شخص ہو تواس کو باہر بھجوا دیں۔حضرت ابو بکر رضہ نے بتایا کہ آپ کے گھر ہی کے لوگ ہیں ان کی مراد حضرت عائشہ سے تھی۔چونکہ آپ کا نکاح ہو چکا تھا اس لئے وہ تو آپ ہی کے گھر کی ہوئیں۔آپ نے اطمینان کرنے کے بعد فرمایا :-