نبیوں کا سردار ﷺ — Page 57
نبیوں کا سردار مجھے اُن کے مقابل پر کھڑا ہونے کا حکم نہیں دیا۔اس کے بعد مدینہ کے لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور یہ مجلس برخاست ہوئی ہے مکہ کے لوگوں کو اس واقعہ کی بھنک پہنچ گئی اور وہ مدینہ کے سرداروں کے پاس شکایت لے کر گئے۔لیکن چونکہ عبداللہ بن ابی ابن سلول مدینہ کے قافلہ کا سردار تھا اور اُسے خود اس واقعہ کا علم نہیں تھا اُس نے انہیں تسلی دلائی اور کہا کہ انہوں نے یونہی کوئی جھوٹی افواہ سن لی ہے ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کیونکہ مدینہ کے لوگ میرے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتے۔مگر وہ کیا سمجھتا تھا کہ اب مدینہ کے لوگوں کے دلوں میں شیطان کی جگہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو چکی تھی۔اس کے بعد مدینہ کا قافلہ واپس چلا گیا۔مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے ہجرت کی تیاری شروع کی۔ایک کے بعد ایک خاندان مکہ سے غائب ہونا شروع ہوا۔اب وہ لوگ بھی جو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا انتظار کر رہے تھے دلیر ہو گئے۔بعض دفعہ ایک ہی رات میں مکہ کی ایک پوری گلی کے مکانوں کو تالے لگ جاتے تھے اور صبح کے وقت جب شہر کے لوگ گلی کو خاموش پاتے تو دریافت کرنے پر انہیں معلوم ہوتا تھا کہ اس گلی کے تمام رہنے والے مدینہ کو ہجرت کر گئے ہیں اور اسلام کے اس گہرے اثر کو دیکھ کر جو اندر ہی اندر مکہ کے لوگوں میں پھیل رہا تھا وہ حیران رہ جاتے تھے۔آخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا،صرف چند غلام، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر اور حضرت علی مکہ میں رہ گئے۔جب مکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ اب شکار ہمارے ہاتھ سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۹۰ مطبوعه مصر ۱۹۳۶ء