نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 314

۳۱۴ ہوتے مگر خواہ مخواہ لوگوں کے معاملات پر اعتراض کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔چ نبیوں کا سردار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا۔آپ اپنی جماعت کو بھی سچ پر قائم رہنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے اور ایسے اعلیٰ درجہ کے سچ کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش فرماتے تھے جو ہر قسم کے جھوٹ کے شائیوں سے پاک ہو۔آپ فرما یا کرتے تھے کہ سچ ہی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نیکی ہی انسان کو جنت دلاتی ہے اور سچ کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان سچ بولتا چلا جائے یہاں تک کہ خدا کے حضور بھی وہ سچا سمجھا جائے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص قید ہو کر آیا جو بہت سے ہے مسلمانوں کے قتل کا موجب ہو چکا تھا۔حضرت عمر سمجھتے تھے کہ یہ شخص واجب القتل۔اور وہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتے تھے کہ اگر آپ اشارہ کریں تو اُسے قتل کر دیں۔جب وہ شخص اُٹھ کر چلا گیا تو حضرت عمرؓ نے کہا۔يَا رَسُولَ اللہ ! یہ شخص تو واجب القتل تھا۔آپ نے فرمایا۔واجب القتل تھا تو تم نے اُسے قتل کیوں نہ کیا۔انہوں نے کہا يَا رَسُول اللہ ! آپ اگر آنکھ سے اشارہ کر دیتے تو میں ایسا کر دیتا۔آپ نے فرمایا نبی دھو کے باز نہیں ہوتا۔یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ میں منہ سے تو اُس سے پیار کی باتیں کر رہا ہوتا اور آنکھ سے اُسے قتل کرنے کا اشارہ کرتا۔سے بخاری کتاب التفسير - تفسیر سورۃ الشعراء باب قوله و انذر عشيرتك الاقربين بخاری کتاب الادب باب قول الله يأيها الذين امنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين ے سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲۱۷