نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 313

۳۱۳ نبیوں کا سردار آپ نے فرمایا ایسا مت کہو۔خدا تعالیٰ اسی کے ذریعہ سے تمہیں رزق دیتا ہے اس لئے اس کی خدمت کرو اور اس کو دین کے لئے آزاد چھوڑ دولے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جارہے تھے کہ رستہ میں ایک منزل پر پہنچ کر ڈیرے لگائے گئے اور صحابہ میدان میں پھیل گئے تا کہ خیمے لگائیں اور دوسرے کام جو کیمپ لگانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں بجالائیں۔انہوں نے سب کام آپس میں تقسیم کر لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کوئی کام نہ لگا یا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے میرے ذمہ کوئی کام نہیں لگایا میں لکڑیاں چنوں گا تا کہ اُن سے کھانا پکایا جا سکے۔صحابہ نے کہا ، يَارَسُول اللہ ! ہم جو کام کرنے والے موجود ہیں آپ کو کیا ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا نہیں! نہیں ! میرا ابھی فرض ہے کہ کام میں حصہ لوں۔چنانچہ آپ نے جنگل سے لکڑیاں جمع کیں تا کہ صحابہ ان سے کھانا پکا سکیں۔کے چشم پوشی آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ خواہ مخواہ دوسروں کے کاموں پر اعتراض نہ کیا کرو اور ایسے معاملات میں دخل نہ دیا کرو جو تمہارے ساتھ تعلق نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح فتنہ پیدا ہوتا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اسلام کا بہترین نمونہ یہ ہے کہ جس معاملہ کا اُس سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو اُس میں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کیا کرے۔آپ کا یہ خلق ایسا ہے کہ جس کی نگہداشت کر کے دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ہزاروں ہزار خرابیاں دنیا میں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مصیبت زدہ کی مدد کرنے کیلئے تو تیار نہیں ترمذی کتاب الزهد باب في التوكل على الله زرقانی جلد ۴ صفحه ۲۶۵