نبیوں کا سردار ﷺ — Page 276
نبیوں کا سردار ہے۔کھانے کو ترک کردینا خود کشی اور خدا تعالیٰ کی گستاخی ہے ہاں کھانے پینے میں مشغول رہنا اور ناجائز اور نا پسندیدہ چیزوں کو کھانا گناہ ہے۔یہ ایک عظیم الشان نکتہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جسے آپ سے پہلے اور کسی نبی نے پیش نہیں کیا۔اخلاق فاضلہ نام ہے طبعی قوی کے صحیح استعمال کا۔طبعی قومی کو مار دینا حماقت ہے ، ان کو ناجائز کاموں میں لگا دینا بدکاری ہے، ان کا صحیح استعمال اصل نیکی ہے یہ خلاصہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اور یہ خلاصہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اور آپ کے اعمال کا۔حضرت عائشہ آپ کی نسبت فرماتی ہیں مَا خَيرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ ايْسَرَ هُمَا مَالَمْ يَكُنْ إِثْمَا فَإِنْ كَان إِثْمَمَّا كَانَ أَبَعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی ایسا موقع پیش نہیں آیا کہ آپ کے سامنے دو راستے کھلے ہوں تو آپ نے ان دونوں راستوں میں سے جو آسان رستہ ہوا سے اختیار نہ کیا ہو بشرطیکہ اُس آسان راستہ کے اختیار کرنے میں کوئی گناہ کا شائبہ نہ پایا جائے۔اگر گناہ کا کوئی شائبہ پایا جاتا تو آپ اس راستہ سے تمام انسانوں سے زیادہ دور بھاگتے تھے۔یہ کیسا لطیف اور کیسا اعلیٰ درجہ کا چلن ہے دنیا کو دھوکا دینے کے لئے لوگ کس طرح بلا وجہ اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالتے ہیں۔ان کا اپنے آپ کو دُکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کے لئے کوئی بے فائدہ کام نہیں کیا جاتا۔اُن کا اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہوتا ہے۔اُن کی اصل نیکی چونکہ بہت کم ہوتی ہے وہ جھوٹی نیکیوں سے لوگوں کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں اور اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے لوگوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہیں مگر مسلم کتاب الفضائل باب ترك الانتقام۔۔۔الخ)