نبیوں کا سردار ﷺ — Page 272
۲۷۲ نبیوں کا سردار تازہ رکھتے۔چنانچہ جب آپ سوتے تو یہ کہتے ہوئے سوتے بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ آمُوْتُ واخی۔اے خدا تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں مروں اور تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں اُٹھوں۔اور جب آپ صبح اٹھتے تو فرماتے الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَا تَنَا وَإِلَيْهِ النشور سے اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں جس نے مرنے کے بعد ہم کو زندہ کیا اور پھر ہم اپنے رب کے سامنے جانے والے ہیں۔خدا تعالیٰ کے قرب کی اتنی خواہش تھی کہ ہمیشہ آپ دعا کرتے تھے اللَّهُمَّ اجْعَلْ في قَلْبِي نُورًا وَ فِي بَصَرِى نُورًا وَ فِي سَمْعِيَ نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِى نُورًا وَفَوْق نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَ آمَاعِي نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا لے یعنی اے میرے ربّ! میرے دل میں بھی اپنا نور بھر دے اور میری آنکھوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے کانوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے دائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے بائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے اُو پر بھی تیرا نور ہو اور میرے نیچے بھی تیرا نور ہوا اور میرے آگے بھی تیرا نور ہو اور میرے پیچھے بھی تیرا نور ہو اور اے میرے ربّ! میرے سارے وجود کونور ہی نور بنادے۔ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آپ کی وفات کے قریب مسیلمہ کذاب آیا اور اس نے کہا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہو جاؤں گا۔اُس وقت اُس کے ساتھ ایک بہت بڑی جمعیت تھی اور جس قوم سے وہ تعلق رکھتا تھا وہ قوم سارے عرب کی قوموں سے تعداد میں زیادہ تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مدینہ میں آنے کی خبر ملی تو آپ اُس کی طرف گئے۔ثابت بن قیس بن بخاری کتاب الدعوات باب وضع اليد اليمنى (الخ) کے بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا انتبه بالليل