نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 263

۲۶۳ نبیوں کا سردار برابر تھے صحابیات بھی آپ کی تعلیم پر عمل کر کے زیور بنانے سے احتراز کرتی تھیں۔آپ قرآنی تعلیم کے مطابق فرماتے تھے کہ مال کا جمع رکھنا غریبوں کے حقوق تلف کر دیتا ہے اس لئے سونے چاندی کو کسی صورت میں گھروں میں جمع کر لینا قوم کی اقتصادی حالت کو تباہ کرنے والا ہے اور گناہ ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر نے آپ کو تحریک کی کہ اب بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف سے سفیر آنے لگے ہیں آپ ایک قیمتی جبہ لے لیں اور ایسے موقعوں پر استعمال فرمایا کریں۔آپ حضرت عمرؓ کی اِس بات کو سن کر بہت خفا ہوئے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے ان باتوں کے لئے پیدا نہیں کیا۔یہ مداہنت کی باتیں ہیں لے ہمارا جیسا لباس ہے ہم اس کے ساتھ دنیا سے ملیں گے۔ایک دفعہ آپ کے پاس ایک ریشمی جبہ لایا گیا۔تو آپ نے حضرت عمر کو تحفہ کے طور پر دے دیا۔دوسرے دن آپ نے دیکھا کہ حضرت عمر اُس کو پہنے پھر رہے تھے۔آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔جب حضرت عمرؓ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ ہی نے تو تحفہ دیا تھا۔تو آپ نے فرمایا ہر چیز اپنے ہی استعمال کے لئے تو نہیں ہوتی۔یعنی یہ محبہ چونکہ ریشم کا تھا آپ کو چاہئے تھا کہ یہ اپنی بیوی کو دے دیتے یا اپنی بیٹی کو دے دیتے یا کسی اور استعمال میں لے آتے۔اس کو اپنے لباس کے طور پر استعمال کرنا درست نہیں تھا۔کے بستر میں سادگی آپ کا بستر بھی نہایت سادہ ہوتا تھا۔بالعموم ایک چمڑا یا اونٹ کے بالوں کا ایک کپڑا ہوتا تھا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہمارا بستر اتنا چھوٹا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ ، بخاری کتاب اللباس باب الحرير للنساء