نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 232

۲۳۲ نبیوں کا سردار میدانِ جنگ میں چھوڑی ہوئی چیزوں سے جمع ہوئے تھے حسب دستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی لشکر میں تقسیم کرنے تھے۔لیکن اس موقع پر آپ نے بجائے ان اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے مکہ اور اردگرد کے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ان لوگوں کے اندر ابھی ایمان تو پیدا نہیں ہوا تھا بہت سے تو ابھی کا فر ہی تھے اور جو مسلمان تھے وہ بھی نئے نے مسلمان ہوئے تھے یہ ان کے لئے بالکل نئی چیز تھی کہ ایک قوم اپنا مال دوسرے لوگوں میں بانٹ رہی ہے۔اس مال کی تقسیم سے بجائے ان کے دل میں نیکی اور تقومی پیدا ہونے کے حرص اور بھی بڑھ گئی۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمگھٹا ڈال لیا اور مزید مطالبات کے ساتھ آپ کو تنگ کرنا شروع کیا یہاں تک کہ دھکیلتے ہوئے وہ آپ کو ایک درخت تک لے گئے اور ر ایک شخص نے تو آپ کی چادر جو آپ کے کندھوں پر رکھی ہوئی تھی پکڑ کر اس طرح مروڑنی شروع کی کہ آپ کا سانس رکنے لگا۔آپ نے فرمایا اے لوگو! اگر میرے پاس کچھ اور ہوتا تو میں وہ بھی تمہیں دے دیتا تم مجھے کبھی بخیل یا بز دل نہیں پاؤ گے لے پھر آپ اپنی اونٹنی کے پاس گئے اور اس کا ایک بال تو ڑا اور اسے اونچا کیا اور فرمایا اے لوگو ! مجھے تمہارے مالوں میں سے اس بال کے برابر بھی ضرورت نہیں سوائے اُس پانچویں حصہ کے جو عرب کے قانون کے مطابق حکومت کا حصہ ہے اور وہ پانچواں حصہ بھی میں اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتا بلکہ وہ بھی تمہیں لوگوں کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔اور یادرکھو کہ خیانت کرنے والا انسان قیامت کے دن خدا کے حضور اس خیانت کی وجہ سے ذلیل ہوگا۔لوگ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہت کے خواہشمند تھے۔کیا بادشاہوں اور عوام کا ایسا ہی تعلق ہوا کرتا ہے؟ کیا کسی کی طاقت ہوتی ہے کہ بادشاہ کو اس طرح دھکیلتا ہوا لے جائے اور اس کے گلے میں پٹکہ ڈال کر اُس کو گھونٹے؟ اللہ کے رسولوں بخارى كتاب الجهاد باب الشجاعة في الحرب و الجبن