نبیوں کا سردار ﷺ — Page 16
۱۶ نبیوں کا سردار نے انسان کو ایسے طور پر پیدا کیا ہے کہ اُس کے دل میں خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی محبت کا یج پایا جاتا ہے۔ہاں سب دنیا کو یہ پیغام سنادے کہ تیرا رب جو سب سے زیادہ عزت والا ہے تیرے ساتھ ہوگا۔وہ جس نے دنیا کو علوم سکھانے کے لئے قلم بنایا ہے اور انسان کو وہ کچھ سکھانے کے لئے آمادہ ہوا ہے جو اس سے پہلے انسان نہیں جانتا تھا۔یہ چند الفاظ قرآن کریم کی اُن سب تعلیموں پر حاوی ہیں جو آئندہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی تھی اور دنیا کی اصلاح کا ایک اہم بیج اُن کے اندر پایا جاتا تھا۔ان کی تفسیر تو قرآن شریف میں اپنے موقع پر آئے گی اس موقع پر ان آیتوں کا اس لئے ذکر کر دیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ ایک اہم واقعہ ہے اور قرآن کریم کے لئے یہ آیات ایک بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں۔محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ کلام نازل ہوا تو آپ کے دل میں یہ خوف پیدا ہو گیا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کی اتنی بڑی ذمہ داری ادا کر سکوں گا ؟ کوئی اور ہوتا تو کبر اور غرور سے اُس کا دماغ پھر جاتا کہ خدائے قادر نے ایک کام میرے سپر دکیا ہے۔مگر محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کام جانتے تھے کام پر اترانا نہیں جانتے تھے۔آپ اس الہام کے بعد حضرت خدیجہ کے پاس آئے۔آپ کا چہرہ اُترا ہوا تھا اور گھبراہٹ کے آثار ظاہر تھے۔حضرت خدیجہ نے پوچھا آخر ہوا کیا؟ آپ نے سارا واقعہ سنایا اور فرمایا میرے جیسا کمزور انسان اس بوجھ کو کس طرح اُٹھا سکے گا۔حضرت خدیجہ نے کہا كلا واللهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِ خدا کی قسم ! یہ کلام خدا تعالیٰ نے اس لئے آپ پر نازل نہیں کیا کہ آپ نا کام اور نامراد ہوں اور خدا آپ کا ساتھ چھوڑ دے۔خدا تعالیٰ ایسا کب کر سکتا ہے۔آپ تو وہ ہیں کہ آپ رشتہ داروں بخاری کتاب بدء الوحی باب كيف كان بدء الوحى (الخ)