نبیوں کا سردار ﷺ — Page 15
۱۵ نبیوں کا سردار غار حرا میں خدا کی عبادت کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب تیس سال سے زیادہ ہوئی تو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت پہلے سے زیادہ جوش مارنے لگی۔آخر آپ شہر کے لوگوں کی شرارتوں، بدکاریوں اور خرابیوں سے متنفر ہو کر مکہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک پتھروں سے بنی ہوئی چھوٹی سی غار میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے لگ گئے۔حضرت خدیجہ چند دن کی غذا آپ کے لئے تیار کر دیتیں لے آپ وہ لے کر حرا میں چلے جاتے تھے اور اُن دو تین پتھروں کے اندر بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت میں رات اور دن مصروف رہتے تھے۔پہلی قرآنی وحی جب آپ چالیس سال کے ہوئے تو ایک دن آپ نے اسی غار میں ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ ایک شخص آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ” پڑھیئے۔آپ نے فرمایا میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔اس پر اُس نے دوبارہ اور سہ بارہ کہا اور آخر پانچ فقرے اُس نے آپ سے کہلواۓ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَهُ يَعْلَمُ یہ قرآنی ابتدائی وحی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام دنیا کو اپنے رب کے نام پر جس نے تجھ کو اور کل مخلوق کو پیدا کیا ہے پڑھ کر آسمانی پیغام سنادے۔وہ خدا جس بخاری کتاب بدء الوحی باب كيف كان بدء الوحی۔۔۔۔۔۔(الخ) العلق : ۶۳۲