نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 203

۲۰۳ نبیوں کا سردار پسند کروں گا مگر بھاگنے کو پسند نہیں کروں گا۔یہ ایک عربی رواج تھا۔وہ گھوڑے کی ٹانگیں اس لئے کاٹ دیتے تھے تا کہ وہ بغیر سوار کے ادھر اُدھر بھاگ کر لشکر میں تباہی نہ مچائے۔تھوڑی دیر کی لڑائی میں آپ کا دایاں بازو کاٹا گیا۔تب آپ نے بائیں ہاتھ سے جھنڈا پکڑ لیا۔پھر آپ کا بایاں ہاتھ بھی کاٹا گیا تو آپ نے دونوں ہاتھ کے ٹنڈوں سے جھنڈے کو اپنے سینہ سے لگا لیا اور میدان میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔تب عبداللہ بن رواحہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت جھنڈے کو پکڑ لیا اور وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے مارے گئے۔اُس وقت مسلمانوں کے لئے کوئی موقع نہ تھا کہ وہ مشورہ کر کے کسی کو اپنا سر دار مقرر کرتے اور قریب تھا کہ دشمن کے لشکر کی کثرت کی وجہ سے مسلمان میدان چھوڑ جاتے کہ خالد بن ولید نے ایک دوست کی تحریک پر جھنڈا پکڑ لیا اور شام تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔دوسرے دن پھر خالد اپنے تھکے ہوئے اور زخم خوردہ لشکر کو لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے اور انہوں نے یہ ہوشیاری کی کہ لشکر کے اگلے حصہ کو پیچھے کر دیا اور پچھلے حصہ کو آگے کر دیا اور دائیں کو بائیں اور بائیں کو دائیں اور اس طرح نعرے لگائے کہ دشمن سمجھا که مسلمانوں کو اور مدد پہنچ گئی ہے۔اس پر دشمن پیچھے ہٹ گیا اور خالد اسلامی لشکر کو بچا کر واپس لے آئے لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی خبر اُسی دن وحی کے ذریعہ سے دے دی اور آپ نے اعلان کر کے سب مسلمانوں کو مسجد میں جمع کیا۔جب آپ منبر پر چڑھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔آپ نے فرمایا اے لوگو! میں تم کو اس جنگ میں جانے والے لشکر کے متعلق خبر دیتا ہوں۔وہ لشکر یہاں سے جا کر دشمن سے مقابل ل السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۷۵۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء