نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 202

۲۰۲ نبیوں کا سردار مقابلہ کے لئے نکلا۔جب یہ لشکر شام کی سرحد پر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ قیصر بھی اس طرف آیا ہوا ہے اور ایک لاکھ رومی سپاہی اس کے ساتھ ہیں اور ایک لاکھ کے قریب عرب کے عیسائی قبائل کے سپاہی بھی اس کے ساتھ ہیں۔اس پر مسلمانوں نے چاہا کہ وہ راستہ میں ڈیرہ ڈال دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیں تا کہ اگر آپ نے کوئی اور مدد بھیجنی ہوتو بھیج دیں اور اگر کوئی حکم دینا ہو تو اس سے اطلاع دیں۔جب یہ مشورہ ہو رہا تھا عبداللہ بن رواحہ جوش سے کھڑے ہو گئے اور کہا اے قوم! تم اپنے گھروں سے خدا کے راستہ میں شہید ہونے کیلئے نکلے تھے اور جس چیز کے لئے تم نکلے تھے اب اُس سے گھبرا رہے ہو اور ہم لوگوں سے اپنی تعداد اور اپنی قوت اور اپنی کثرت کی وجہ سے تو لڑائیاں نہیں کرتے رہے۔ہم تو اس دین کی مدد کیلئے دشمنوں سے لڑتے رہے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے لئے نازل کیا ہے۔اگر دشمن زیادہ ہے تو ہوا کرے۔آخر دو نیکیوں میں سے ہم کو ایک ضرور ملے گی یا ہم غالب آجائیں گے یا ہم خدا کی راہ میں شہید ہو جائیں گے۔لوگوں نے اُن کی یہ بات سن کے کہا ابن رواحہ بالکل سچ کہتے ہیں اور فوراً کوچ کا حکم دے دیا گیا۔جب وہ آگے بڑھے تو رومی لشکر انہیں اپنی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو مسلمانوں نے موتہ کے مقام پر اپنی فوج کی صف بندی کر لی اور لڑائی شروع ہو گئی۔تھوڑی ہی دیر میں زید بن حارثہ جو مسلمانوں کے کمانڈر تھے مارے گئے تب اسلامی فوج کا جھنڈا جعفر بن ابی طالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فوج کی کمان سنبھال لی۔جب اُنہوں نے دیکھا کہ دشمن کی فوج کا ریلا بڑھتا چلا جاتا ہے اور مسلمان اپنی تعداد کی قلت کی وجہ سے ان کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ جوش سے گھوڑے سے کود پڑے اور اپنے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں۔جس کے معنی یہ تھے کہ کم سے کم میں تو اس میدان سے بھاگنے کے لئے تیار نہیں ہوں میں موت کو