نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 197

۱۹۷ نبیوں کا سردار کہ وہ بعد میں اسباب کی سواریوں کے ساتھ آجائیں اور خودا پنی سواری دوڑا کر حرم کی حدود سے باہر نکل گئے اور وہیں شام کے وقت آپ کی بیوی میمونہ کو پہنچایا گیا اور پہلی رات و ہیں جنگل میں میمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئیں لے آنحضرت عل کے تعد دازواج پر اعتراض کا جواب وسام یہ واقعہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو ایسی مختصر سیرت میں بیان کیا جاتا، جس قسم کی سیرت میں اس وقت لکھ رہا ہوں لیکن اس واقعہ کا ایک ایسا پہلو ہے جو مجھے مجبور کرتا ہے کہ اس معمولی سے واقعہ کو اس جگہ لکھ دوں اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اُن کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپ کا یہ فعل نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِك عیاشی پر مبنی تھا مگر جب ہم اس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپ کی بیویوں کو آپ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا تعلق ایسا پاکیزہ ، ایسا بے لوث اور ایسا روحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ آپ کی بیویوں کے دل کسی روحانی جذبہ سے متاثر نہ ہوتے۔مگر آپ کی بیویوں کے دل میں آپ کی جو محبت تھی اور آپ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھاوہ بہت سے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے۔مثلاً یہی واقعہ کتنا چھوٹا سا تھا کہ میمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دفعہ حرم سے باہر ایک خیمہ میں ملیں۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُن سے تعلق کوئی جسمانی تعلق ہوتا، اور اگر آپ بعض بیویوں کو بعض پر ترجیح دینے والے ہوتے تو میمونہ اس واقعہ کو اپنی زندگی کا کوئی اچھا واقعہ نہ سمجھتیں بلکہ سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۱۳، ۱۴۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء