نبیوں کا سردار ﷺ — Page 191
۱۹۱ نبیوں کا سردار کے فاصلہ پر تھا اور جہاں سے مدینہ کے خلاف آسانی سے سازش کی جاسکتی تھی نکال دیئے جائیں۔چنانچہ آپ نے سولہ سو صحابہ کے ساتھ اگست ۶۲۸ء میں خیبر کی طرف کوچ فرمایا۔خیبر ایک قلعہ بند شہر تھا اور اس کے چاروں طرف چٹانوں کے اوپر قلعے بنے ہوئے تھے۔ایسے مضبوط شہر کو اتنے تھوڑے سے سپاہیوں کے ساتھ فتح کر لینا کوئی آسان بات نہ تھی اردگرد کی چھوٹی چھوٹی چوکیاں تو چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد فتح ہو گئیں۔لیکن جب یہودی سمٹ سمٹا کر شہر کے مرکزی قلعہ میں آگئے تو اس کے فتح کرنے کی تمام تدابیر بیکار جانے لگیں۔ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اس شہر کی فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مقدر ہے آپ نے صبح کے وقت یہ اعلان کیا کہ میں اسلام کا سیاہ جھنڈا آج اس کے ہاتھ میں دوں گا جس کو خدا اور اس کا رسول اور مسلمان پیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ نے اس قلعہ کی فتح اس کے ہاتھ پر مقدر کی ہے۔اس کے بعد دوسری صبح آپ نے حضرت علی کو بلایا اور جھنڈا اُن کے سپر د کیا۔جنہوں نے صحابہ کی فوج کو ساتھ لے کر قلعہ پر حملہ کیا۔باوجود اس کے کہ یہودی قلعہ بند تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کو اُس دن ایسی قوت بخشی کہ شام سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہو گیا اور اس بات پر صلح ہوئی کہ تمام یہودی اور ان کے بیوی بچے خیبر چھوڑ کر مدینہ سے دور چلے جائیں گے اور ان کے تمام اموال مسلمانوں کے حق میں ضبط ہوں گے اور یہ کہ جو شخص اس معاملہ میں جھوٹ سے کام لے گا اور کوئی مال یا جنس چھپا کر رکھے گا وہ اس معاہدہ کی حفاظت میں نہیں آئے گا اور غداری کی سزا کا مستحق ہوگا۔تین عجیب واقعات اس جنگ میں تین عجیب واقعات پیش آئے کہ اُن میں سے ایک تو خدا تعالیٰ کے بخاری کتاب المغازی باب غزوة خيبر