نبیوں کا سردار ﷺ — Page 190
۱۹۰ نبیوں کا سردار قلعہ خیبر کی تسخیر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے یہودی اور کفار عرب مسلمانوں کے خلاف ارد گرد کے قبائل کو ابھار رہے تھے اور اب یہ دیکھ کر کہ عرب میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ مسلمانوں کو تباہ کر سکیں یا مدینہ پر جا کر حملہ کر سکیں۔یہودیوں نے ایک طرف تو رومی حکومت کی جنوبی سرحد پر رہنے والے عرب قبائل کو جو مذہبا عیسائی تھے، اُکسانا شروع کیا اور دوسری طرف اپنے ان ہم مذہبوں کو جو عراق میں رہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چٹھیاں لکھنی شروع کیں تا کہ وہ کسری کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کا ئیں۔میں یہ بھی او پر لکھ چکا ہوں کہ اس شرارت کے نتیجہ میں کسری مسلمانوں کے خلاف سخت بھڑک گیا تھا اور اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے یمن کے گورنر کو حکم بھی دے دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو محفوظ رکھا اور کسری اور یہودیوں کی تدبیر کو نا کام کر دیا۔ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہوتا تو جہاں تک مادی سامانوں کا تعلق ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کسری اور دوسری طرف قیصر کے لشکروں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے۔خدا ہی تھا جس نے کسری کو مار دیا اور اس کے بیٹے سے یہ حکم جاری کروا دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں کوئی کارروائی نہ کی جائے اور اس نشان کو دیکھ کر یمن کے حکام اسلام لے آئے اور یمن کا صوبہ بغیر لشکر کشی کے اسلامی حکومت میں داخل ہو گیا۔یہ صورت حالات جو یہود نے پیدا کر دی تھی اس بات کی متقاضی تھی کہ یہود کو مدینہ سے اور بھی پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ اگر وہ مدینہ کے قریب رہتے تو یقینا اور بھی زیادہ خونریزیوں اور شرارتوں اور سازشوں کے مرتکب ہوتے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ سے واپس آنے کے قریباً پانچ ماہ بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہودی خیبر سے جو مدینہ سے صرف چند منزل