نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 12

۱۲ نبیوں کا سردار نے کوئی نشان دکھایا تھا یا صرف اُس پر حق کا رُعب چھا گیا اور اُس نے یہ دیکھ کر کہ سارے مکہ کا مطعون اور مقہور انسان ایک مظلوم کی حمایت کے جوش میں اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد کے مکہ کے سردار کے دروازہ پر کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اس شخص کا جو حق تم نے دینا ہے وہ ادا کر دو تو حق کے رُعب نے اُس کی شرارت کی روح کو کچل دیا اور اُسے سچائی کے آگے سر جھکانا پڑا۔حضرت خدیجہ سے آنحضرت علی کی شادی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۲۵ سال کے ہوئے تو آپ کی نیکی اور آپ کے تقویٰ کی شہرت عام طور پر پھیل چکی تھی لوگ آپ کی طرف انگلیاں اٹھاتے اور کہتے یہ سچا انسان جا رہا ہے۔یہ امانت والا انسان جا رہا ہے۔یہ خبریں مکہ کی ایک مالدار بیوہ کو بھی پہنچیں اور اُس نے آپ کے چا ابو طالب سے خواہش کی کہ وہ اپنے بھتیجے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہیں کہ اُس کا تجارتی مال جو شام کے تجارتی قافلہ کے ساتھ جارہا ہے وہ اُس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔ابو طالب نے آپ سے ذکر کیا اور آپ نے اسے منظور کر لیا۔اس سفر میں آپ کو بڑی کامیابی ہوئی اور اُمید سے زیادہ نفع کے ساتھ آپ کو ٹے۔خدیجہ نے محسوس کیا کہ یہ نفع صرف منڈیوں کے حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ امیر قافلہ کی نیکی اور دیانت کی وجہ سے ہے۔اُس نے اپنے غلام میسرہ سے جو آپ کے ساتھ تھا آپ کے حالات دریافت کئے اور اُس نے بھی اُس کے خیال کی تائید کی اور بتایا کہ سفر میں جس دیانتداری اور خیر خواہی سے آپ نے کام کیا ہے وہ صرف آپ ہی کا حصہ تھا۔اس بات کا حضرت خدیجہ کی طبیعت پر خاص اثر ہوا۔باوجود اس کے کہ وہ اُس وقت چالیس سال کی تھیں اور دو دفعہ بیوہ ہو چکی تھیں انہوں نے اپنی ایک سہیلی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے